حکومت آج سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے عدم اعتماد کی ووٹنگ کروا دے گی یا اس کے قانونی مشیر اسے کسی تازہ آئینی بحران سے دوچار کر دیں گے؟ کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا تاہم یہ بات طے ہے کہ ہر دو صورتوں میں نتیجہ ایک ہی نکلے گا کیونکہ جی کا جانا جب ٹھہر چکا ہو تو اسے جانا ہی ہوتا ہے۔ رات عمران خان نے قوم سے خطاب کیا۔ اس کے مندرجات بتا رہے کہ یہ آخری خطاب تھا۔ تقریر وزیراعظم کی تھی لیکن اسلوب اپوزیشن لیڈر کا تھا۔ گویا مقرر بھی جانتا تھا کہ یہ نئے پاکستان کی آخری شام ہے۔ بہت جلد وہ پرانے پاکستان میں ہو گا۔ حکومت کے پاس ووٹنگ سے بچنے کے آپشن تو اب بھی موجود ہیں، لیکن اگر ڈپٹی سپیکر کی غیر آئینی رولنگ سے یہ بلا نہیں ٹلی تو اب بھی کوئی پارلیمانی یا قانونی حربہ اسے نہیں ٹال پائے گا۔ آج ایک بار پھر ووٹنگ سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے اور معاملہ پھر سے عدالت لے جایا جاتا ہے یا ووٹنگ سے پہلے دھمکی آمیز خط پر اِن کیمرا سیشن کے نام پر ایوان میں کارروائی کو طوالت دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

نئے پاکستان کی آخری شام؟
نئے پاکستان کی آخری شام؟

روس اور یوکرین کے درمیان تاحال لڑائی جاری ہے اور جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کوششیں تاحال کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکیں‘ یوکرین کے مسئلے پر امریکا اور مغربی یورپ کی روس کے ساتھ آویزش اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ مغربی ممالک میں روس کے صدر پیوٹن پر زبردست تنقید ہو رہی ہے جب کہ روس کے صدر بھی تمام تر مغربی مخالفت کے باوجود اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق روسی فوج نے یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں رہائشی علاقے پر راکٹ حملے جاری رکھے، بتایا گیا ہے کہ ان میزائل حملوں کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں، روسی فوج نے لوکل گورنمنٹ ہیڈ کوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا۔ ذرائع ابلاغ میں بتایا گیا ہے کہ رہائشی علاقوں پر فضائی بمباری بھی کی گئی اور اس میں بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ یہ اطلاعات افسوسناک ہیں، بے گناہ شہریوں کا جنگ کا ایندھن بننا کسی المیے سے کم نہیں ہے۔ شہری آبادیوں پر حملے نہیں ہونے چاہییں۔ یوکرینی رہنماؤں نے اگلے روز یہ کہا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق روسی فوج کا تقریباً 60 کلومیٹر طویل قافلہ دارالحکومت کیف کی جانب بڑھ رہا ہے۔

روس یوکرین جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات
روس یوکرین جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات

امن اور محبت کا درس دینے والے حافظ ڈاکٹر طاہر شمسی اپنے مریضوں کو صبر کی تلقین کرتے کرتے ہم سے جدا ہو گئے، طاہر شمسی تو وہ شخصیت تھے کہ ان کو خون کے کینسر کے مریض دامن اٹھا کر ان کی عزت اور مرتبہ کی دعا کرتے تھے، عوامی سطح پر جو انھیں پذیرائی ملی وہ اس قابل تھے کہ ان کے کارنامے ہائے نمایاں تھے۔ 16 دسمبر دوپہر 12 بجے ان کے ادارے NIBD میں ان سے ملاقات ہوئی، میں اپنی صاحبزادی کی شادی کا کارڈ دینے گیا تھا، مسکرائے اور کہا کہ رب تعالیٰ ہماری بیٹی کو شاد و آباد رکھے۔ مریضوں کی OPD میں مصروف تھے، خصوصی طور پر اپنے کمرے سے اٹھ کر باہر آگئے اور پندرہ منٹ راقم سے بات کرتے رہے۔ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ ان کا پسندیدہ اخبار تھا، جب بھی راقم کا کالم چھپتا تو وہ کہتے کہ آج آپ نے کالم نہیں بھیجا، میں بھیج رہا ہوں، کیا یاد کرو گے، ادب کے معاملے میں بہت باادب تھے۔ جوش ملیح آبادی، استاد قمر جلالوی اور پروین شاکر ان کے پسندیدہ شاعر تھے۔ راقم کی ان سے بہت علیک سلیک تھی۔

حافظ، ڈاکٹر طاہر شمسی تمہاری یاد ستاتی ہے
حافظ، ڈاکٹر طاہر شمسی تمہاری یاد ستاتی ہے

ترکی کی معیشت اور اس معاملے میں صدر طیب اردوان کی شخصیت اور نظریہ اس وقت عالمی سطح پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ یہ وہی اردوان تھے جنہوں نے 2002ء کے بعد یورپ کے مرد بیمار کو دنیا کی 20 بڑی معاشی طاقتوں میں لاکھڑا کیا، لیکن اب یہ کہا جا رہا ہے کہ انہی کے نظریات کی وجہ سے آج ترکش کرنسی دنیا کی کمزور ترین کرنسی بن چکی ہے۔ ترک صدر دراصل مابعد کورونا معاشی صورتحال میں ایک بار پھر پُرعزم ہو گئے ہیں کہ وہ شرح سود کو کم سے کم درجے پر لائیں گے۔ نظریاتی طور پر یہ ان کا فارمولا ہے کہ سود وجہ ہے اور مہنگائی حاصل ہے۔ گزشتہ 2 ماہ میں انہوں نے اپنا یہ فارمولا بار بار دوہرایا ہے اور مارکیٹ نے ردِعمل دیتے ہوئے کرنسی کو دن رات گرایا ہے۔ حتیٰ کہ صرف ایک دن قبل ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قیمت ساڑھے 18 پر پہنچ گئی تھی۔ سیاسی پنڈت یہ دعویٰ کرتے نظر آرہے تھے کہ اب صدر اردوان کے خلاف صرف مارکیٹ ہی ردِعمل ظاہر نہیں کرے گی بلکہ اب عوامی ردِعمل بھی اٹھنے کو ہے جو قبل از وقت انتخابات کی وجہ نہ بھی بن سکا تو 2023ء میں صدر اردوان کا سورج ڈوبو دے گا۔

ترک معیشت کو سنبھالنے کے لیے طیب اردوان کا فیصلہ کتنا اچھا؟ کتنا بُرا؟
ترک معیشت کو سنبھالنے کے لیے طیب اردوان کا فیصلہ کتنا اچھا؟ کتنا بُرا؟

( ’’ کیا امریکا بکھر رہا ہے‘‘ کے عنوان سے آپ تین حصوں پر مشتمل جو مضمون پڑھیں گے وہ دراصل کینیڈا کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے ثقافتی و ماحولیاتی محقق ویڈ ڈیوس کا تجزیہ ہے )۔ ہنری کسنجر سے جو کئی مقولے منسوب ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ ’’ امریکا سے دشمنی خطرناک مگر امریکا سے دوستی مہلک ہے‘‘۔ ہر سلطنت کی طرح امریکا بھی اس وقت زوال کے خطرے سے دوچار ہے۔ کوئی سلطنت دائمی نہیں۔ جو اوپر جائے گا وہ نیچے بھی آئے گا۔ پندھرویں صدی پرتگیزیوں کی تھی۔ سولہویں صدی میں ہسپانیہ کا بول بالا تھا۔ ستہرویں صدی میں ولندیزی، اٹھارویں میں فرانسیسی اور انیسویں صدی میں برطانیہ عظمیٰ کا طوطی بولتا تھا۔ پہلی عالمی جنگ میں لہولہان ہونے کے باوجود انیس سو پینتیس تک برطانیہ کرہِ ارض کی سب سے بڑی سلطنت گردانی جاتی تھی۔ دوسری عالمی جنگ نے سب ہی کی جغرافیائی و اقتصادی چولیں ہلا دیں۔ جب جمال عبدالناصر نے نہر سویز کو قومی ملکیت میں لیا اور انیس سو چھپن میں برطانیہ نے اسرائیل اور فرانس کے ساتھ مل کے مصر پر حملہ کیا اور امریکا ، سوویت یونین اور اقوامِ متحدہ کے بھرپور دباؤ کی تاب نہ لاتے ہوئے پہلی بار پسپا ہونا پڑا تو سب کو معلوم ہو گیا کہ عظیم برطانیہ کے دن گنے جا چکے ہیں۔

کیا امریکا بکھر رہا ہے
کیا امریکا بکھر رہا ہے
ذیابیطس کتنی بڑی مصیبت ہے ؟
ذیابیطس کتنی بڑی مصیبت ہے ؟
Pakistan Insider

Pakistan Insider

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, …